‏دلچسپ و عجیب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏دلچسپ و عجیب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 19 جون، 2017

خاتون کی 5 برسوں میں اپنے تمام فیس بک دوستوں سے ملاقات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اس تجربے کے بعد ان مجازی دوستوں سے زیادہ قریب ہوگئی ہوں جو پہلے صرف ڈیجیٹل زندگی کا حصہ تھےمین، امریکہ: امریکا کی دوردراز ریاست مین کی رہائشی تانجہ اولاندر کو اچانک خیال آیا کہ وہ دنیا بھر میں موجود اپنے فیس بک
دوستوں سے ملاقات کرکے ان کی تصاویر لیں تاکہ اسے اندازہ ہوسکے کہ کون ان کا حقیقی دوست ہے۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے تانجہ اولاندر نے اپنے تمام 626 فیس بک دوستوں سے ملاقات کے لئے 2010 میں سفر کا آغاز کیا جو تقریباً 5 سال میں مکمل ہوا۔ وہ جہاں جہاں گئیں انہوں نے اپنے دوستوں سے ملاقاتیں کیں، ان کی تفصیلات جمع کیں اور تصاویر بھی لیں۔ اس پانچ سالہ منصوبے کو تانجہ نے ’’کیا تم واقعی میرے دوست ہو؟ (آر یو ریئلی مائی فرینڈ؟) کا نام دیا۔منصوبہ سادہ سا تھا یعنی اپنے تمام 626 دوستوں سے ملاقات کرنا اور ان کی تصاویر اور تفصیلات کو جمع کرنا اور ان کے ساتھ کچھ وقت بھی گزارنا۔ اس کے لئے تانجہ نے ہر ماہ میں دو ہفتے سفر کے لئے متعین کئے یہ سلسلہ لگاتار 5 سال تک چلتا رہا۔ وہ اپنی فرینڈ لسٹ میں شامل ہر دوست کے پاس گئیں اور اس سے ملاقات کی، اس کے ساتھ کچھ وقت گزارا اور ان کی زندگی کی تفصیلات بھی جمع کیں۔تانجہ کا طویل سفر 2016 میں اختتام پذیر ہوا اور اس دوران انہوں نے 4 براعظموں کے 12 ممالک کا سفر کیا اور 43 امریکی ریاستوں میں 400 گھروں کی مہمان رہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے اپنے اس سوال کا جواب پانے کی بھی کوشش کی کہ کیا آپ واقعی ان کے دوست ہیں۔امریکی خاتون کے مطابق سوشل میڈیا رابطے کا ایک مختلف انداز ہے، اگر وہ دن میں دس بار کسی آن لائن دوست کی تصویر دیکھتی ہیں تو ضروری نہیں کہ وہ مجھ سے قریب ہے۔ پھر آن لائن اور آف لائن دوستوں میں بھی کچھ فرق ضرور ہوتا ہے۔ تانجہ کے مطابق اس تجربے کے بعد وہ اپنے ان مجازی دوستوں سے زیادہ قریب ہوگئی ہیں جو پہلے صرف ڈیجیٹل زندگی کا حصہ تھے۔ انہوں نے اپنے پروجیکٹ کی ایک ڈاکیومنٹری بھی بنائی ہے جو رواں برس مارچ میں ریلیز کی جا چکی ہے۔

عاشق محبوبہ کو محبت کایقین دلاتے ٹرین کے آگے جاگرا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)نوجوان پلیٹ فارم کی طرف بڑھتی ہوئی ریل گاڑی کی جانب جھکا اور اس کا پاؤں پھسلا اور وہ نیچے ریل کی پٹڑی پر
جاگرارانچی: بھارت میں نوجوان عاشق محبوبہ کو اپنی محبت کا یقین دلاتے ہوئے ریل گاڑی کے آگے جاگرا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست جھاڑ کھنڈ میں اشیش ورما نامی 23 سالہ نوجوان پلیٹ فارم پر چہل قدمی کرتے ہوئے اپنی محبوبہ سے فون پر بات کررہا تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ فون پر کسی لڑکی سے کہہ رہا تھا کہ میں تمہاری خاطر جان بھی قربان کرسکتا ہوں اور پھر وہ پلیٹ فارم کی طرف بڑھتی ہوئی ریل گاڑی کی جانب جھکا اور اسی دوران اس کا پاں پھسلا اور وہ نیچے ریل کی پٹڑی پر جاگرا۔ ریل گاڑی کے ڈرائیور نے اسے پٹڑی پر گرتے ہوئے دیکھ کر ایمرجنسی بریک لگائے جس کی وجہ سے اشیش کی جان تو بچ گئی البتہ اسے سر پر شدید چوٹیں آئیں تاہم اسے فوری طور پر ایک مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ جہاں پر نوجوان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

پاکستانی لڑکااپنی بھارتی خاتون دوست سے شرط جیت گیا،اس کے بعداس نے ان لڑکیوں سے کیاکروایا؟بھارت آگ بگولہ

پاکستان کی بھارت کے خلاف شاندارفتح کے بعدشائقین کرکٹ جہاں اپنی ٹیم کی تعریف میں مصروف
ہیں وہیں اب ایک ایسی ویڈیوسوشل میڈیاپروائرل ہورہی ہے جس میں ایک پاکستانی نوجوان اپنی بھارتی دوست لڑکیوں سے پاکستان کی جیت کی خوشی میں پاکستان کاقومی ترانہ پڑھوارہاہے ۔ایک طرف توجہاں یہ ویڈیووائرل ہورہی ہے وہیں دوسری طرف یہ ویڈیودیکھ کربھارتیوں کے سینے میں آگ لگ گئی ہے۔

جمعہ، 16 جون، 2017

زمین کی گہرائی میں کیا ہے؟ انتہائی خوفناک حقائق نے انسان کو ہلاکررکھ دیا

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہماری زمین جس پر ہم رہتے ہیں، اپنے رہنے کے لیے گھر بناتے ہیں، اپنے اندر کیا رکھتی ہے؟اگر زمین کو کھودا جائے تو ہم کتنی گہرائی میں جاسکتے ہیں؟ اور اس گہرائی میں ہمیں کیا ملے گا؟آئیں آج ان تمام سوالات کے جواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔زمین کی اب تک کی معلوم گہرائی روس کے جزیرہ نما حصہ (پینسولا) کولا
میں موجود ہے جہاں ایک 7.5 میل گہرا گڑھا موجود ہے جسے کولا بورہول کہا جاتا ہے۔یہ گڑھا سمندر کی اب تک کی معلوم گہرائی سے بھی زیادہ گہرا ہے۔زمین کی گہرائی کو جانچنے کے لیے اس گڑھے کی کھدائی سنہ 1970 میں سوویت یونین کے دور میں شروع کی گئی۔اس کھدائی سے اب تک 3 اہم دریافتیں کی جاچکی ہیں۔ آئیں دیکھتے ہیں وہ دریافتیں کیا ہیں۔ ایک پوری تہہ غائب ہوگئی زمین کے اندر موجود پتھریلی تہہ میں بسالٹ نامی تہہ موجود نہیں۔ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ زمین کی تہہ میں بلند درجہ حرارت کے باعث سخت مادے مائع حالت میں موجود ہیں اور انہی میں سے ایک تہہ بسالٹ کی ہے۔تاہم اس کھدائی میں ماہرین کو بسالٹ نہیں ملا۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اس تہہ کا کوئی وجود نہیں، ممکن ہے یہ تہہ مزید گہرائی میں واقع ہو جہاں ابھی تک انسان نہ پہنچ سکا ہو۔ گہرائی میں پانی پانی عموماً زمین کے اندر اوپر ہی ہوتا ہے اور تھوڑی سی کھدائی کے بعد نکل آتا ہے جس کا ثبوت جا بجا کھدے کنویں اور دیہی علاقوں میں نصب ہینڈ پمپس ہیں جو زمین سے پانی نکال کر زمین کے اوپر آباد افراد کی ضروریات پورا کرتے ہیں۔تاہم سائنس دانوں نے اس گہرائی سے بہت دور 4.3 میل نیچے بھی پانی دریافت کیا۔ اس قدر گہرائی میں پانی کی موجودگی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔
سب سے حیرت انگیز دریافت کھدائی کے اس عمل کے دوران سب سے حیرت انگیز دریافت زمین کے اندر اتھاہ گہرائی میں خوردبینی رکازیات (فاسلز) کی شکل میں زندگی کی موجودگی تھی۔یہ فاسلز جن پتھروں میں دریافت کیے گئے ان پتھروں کی عمر 2 ارب سال تھی۔ ان فاسلز میں خورد بینی جانداروں کی 35 انواع دریافت کی گئیں۔ کھدائی کیوں روکی گئی؟ انسانی عقل کو دنگ کردینے والے انکشافات پر مبنی اس کھدائی کو سنہ 1994 میں کئی وجوہات کے باعث روک دیا گیا۔پہلی وجہ تو زمین کی تہہ کا ناقابل برداشت درجہ حرارت تھا جو 180 سینٹی گریڈ پر تھا۔اس کے علاوہ جیسے جیسے کھدائی ہوتی گئی، ویسے ویسے زمین کے اندر پتھروں کی کثافت یا مضبوطی میں اضافہ ہوتا گیا۔ کھدائی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مزید گہرائی میں ڈرلنگ کرنا کسی پلاسٹک سے ڈرل کرنے جیسا ہوگیا تھا۔ایک اور وجہ عوام میں عجیب و غریب خیالات کا پھیل جانا بھی تھا۔کھدائی کے دوران جب پانی کی موجودگی سامنے آئی تو لوگوں نے اسے حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں آنے والے عظیم سیلاب سے جوڑنا شروع کردیا جس کے بعد زمین پر دوبارہ زندگی کا آغاز ہوا تھا۔لوگوں کا ماننا تھا کہ اس عظیم سیلاب کے بعد جب پانی اترا تو وہ زیر زمین گڑھوں اور نالوں میں پھیل گیا اور اب اس قدر گہرائی میں پانی کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ یہ طوفان اور عظیم سیلاب کوئی دیو مالائی داستان نہیں بلکہ حقیقت تھی۔کھدائی کے اس عمل کے دوران ماہرین کے دلوں میں بھی ایک مفروضہ بیٹھ گیا جو کافی انوکھا اور کسی حد تک خوفزدہ کردینے والا تھا۔ماہرین کے مطابق جہاں تک وہ کھدائی کرچکے تھے، اس حد سے آگے مزید کھدائی کرنا جہنم کی طرف جانکلنے کے مترادف تھا، جو ان کے خیال میں زمین کی گہرائی میں موجود تھی۔ان ماہرین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب وہ کھدائی کرتے ہوئے زمین کی گہرائی کی طرف بڑھ رہے تھے تو انہیں بعض اوقات نامانوس سی چیخیں بھی سنائی دیتی تھیں۔ان کے مطابق یہ چیخیں تکلیف میں مبتلا ان روحوں کی تھیں جو جہنم میں جل رہی تھیں۔اور آخر میں آپ کو سب سے زیادہ خوفناک بات سے آگاہ کرتے چلیں، یہ کھدائی جہاں پر ختم ہوئی وہ مقام زمین کے مرکز تک کا صرف 0.002 حصہ ہے۔یعنی زمین کی لامتناہی گہرائی ابھی مزید کئی عظیم دریافتوں کی منتظر ہے، کیا معلوم انسان اس قابل ہے بھی یا نہیں کہ اسے دریافت کرسکے۔

منگل، 13 جون، 2017

دنیا کا سب سے مہنگا برگر؛ قیمت ’صرف‘ ڈھائی لاکھ روپے

دی ہیگ: ہالینڈ کے ایک شیف نے بلند معیارات پر انتہائی احتیاط سے تیار کردہ برگر بنایا ہے جو اب تک دنیا کا سب سے قیمتی برگر بھی ہے۔ اس برگر کی قیمت 1785 پاؤنڈ یا پاکستان روپوں میں 2 لاکھ 38 ہزار روپے ہے جب کہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے بھی اسے دنیا کا مہنگا ترین برگر تسلیم کیا ہے۔

اسے ہالینڈ کے شہر ہیگ میں واقع ساؤتھ آف ہیوسٹن ریسٹورینٹ کے شیف ڈیاگو بیوک نے تیار کیا ہے جو برگر بنانے کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ برگر کی تیاری میں دنیا کے بہترین اور کمیاب ترین اجزا استعمال کئے گئے ہیں جیسے کہ اس میں جاپانی گائے کا بہترین گوشت ’ویگیو‘ اور اینگس گوشت  ڈالا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ریمیکر پنیر دوسرا اہم جزو ہے۔ لابسٹر اور ہرمٹ کیکڑے سے کشید کیا گیا سوس، جاپان کے مشہور ٹماٹر، فرانس کی سلاد، جمائیکا کی مشہور کافی، مڈغاسکر سے حاصل شدہ ونیلا اور جاپانی سویا کو بھی شامل کیا گیا۔ اس کا بن خاص خمیر سے بنایا گیا ہے جس میں زعفران شامل ہے اور اوپر سونے کے ورق چڑھائے گئے ہیں۔

اس برگر کے اجزائے ترکیبی کو ایک ذائقے دار برگر بنانے میں دو سال لگے ہیں اور اسی شیف کو 2015 میں شہر کے بہترین برگرساز کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

کوہ پیما نے رسی کے بغیر امریکا کا انتہائی مشکل پہاڑ عبور کرلیا

کیلیفورنیا: امریکا کے یوسمائٹ نیشنل پارک میں ایک دشوار گزار سیدھی پہاڑی ہے جسے یوسمائٹ ایل کیپیٹن پہاڑ کہا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی صرف 3000 فٹ ہے لیکن اسے رسے کے بغیر عبور کرنا محال ہے تاہم اب ایک کوہ پیما نے کسی امدادی سامان کے بغیر سر کر کے ایک نیا کارنامہ انجام دیا ہے۔

31 سالہ ایلکس ہونولڈ  کا تعلق شمالی کیلیفورنیا سے ہے اور وہ پہلا شخص ہے جس نے ایل کیپیٹین پہاڑ کو رسی یا کسی دوسرے سامان کے بغیر عبور کیا اور اس کاوش میں انہوں نے کوئی حفاظتی سامان بھی استعمال نہیں کیا۔ 4 جون 2017 کو ایلکس نے 3 گھنٹے 56 منٹ میں یہ پہاڑی عبور کی۔ انہوں نے انتہائی پھسلن والے گرینائٹ پہاڑ سر کرنے میں ایک شے کا استعمال کیا جو چاک کا سفوف تھا جس کی وجہ سے وہ پھسلنے سے بچتے رہے تاہم انہوں نے مشق کے لیے کئی مرتبہ اس پہاڑ کو آلات اور رسیوں کی مدد سے عبور کیا تاکہ وہ پاؤں جمانے اور انگلیاں پھسانے کی جگہ کو دیکھ کر انہیں یاد کر لیں۔
یہ پہاڑ کسی دیوار کی طرح بالکل سیدھا ہے اور بہت پھسلن والا ہے جس پر چڑھنا شیشے کی دیوار پر چڑھنے کے برابر ہے اور یہی وجہ ہے کہ تمام کوہ پیما یہاں پر خاص آلات کے ساتھ آتے ہیں جبکہ اوپر چڑھتے ہوئے سفر مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ ایلکس کا کہنا ہے کہ جب وہ 2300 فٹ پر پہنچا تو صورتحال خوفناک ہو گئی تھی جہاں صرف ایک انگوٹھا پھنسانے کی جگہ ہی مل سکی۔ اس کی مشق کے لیے وہ پہلے ہر روز اپنی انگلیوں کے پور سے اپنی وین سے لٹک کر اس کی پریکٹس کرتا رہا۔

پیر، 12 جون، 2017

زیادہ گالیاں دینے والے ایماندار اور صاف دل ہوتے ہیں: تحقیق

اگر آپ کو گالیاں دینے کی بری عادت ہے تع جان لیجئے کہ اس کا ایک فائدہ بھی ہے۔ حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادہ گالیاں دینے والے زیادہ ایماندار اور صاف دل کے مالک ہوتے ہیں۔

انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی می جانے والی تحقیق 276 افراد اور ان کی گالیاں دینے کی عادات کا مطالعہ کیا گیا۔ لوگوں سے ان کی پسندیدہ گالی کے بارے میں پوچھا گیا اور پوچھا گیا کہ وہ کب ان کا استعمال کرتے ہیں۔۔ بعد ازاں ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی غلطی کا الزام دوسروں پر دھرتے ہیں، کھیل میں بے ایمانی کرتے ہیں اور دوسروں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ان تمام معلومات کا تجزیہ کرنے کے بعد سائنس دانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ زیادہ گالیاں دینے والے افراد جھوٹ بہت کم بولتے ہیں۔
ڈیلی میل کو دئے گئے انٹرویو میں محقق اسٹیل ویل کا کہنا تھا کہ آُ اسے دو طرح سے دیکھ سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ زیادہ گالیاں دینا ایک منفی سماجی روہ ہے، جبکہ دوسری طرف دیکھا جائے تو ایسے لوگ اپنے الفاظ کو فلٹر نہیں کرتے اس لئے ان میں من گھڑت کہانیوں کا موقع بھی کم ہوتا ہے۔ الفاظ کی زیادہ آمیزش اور ان کو چھاننے سے سچ بدل جاتا ہے۔
بشکریہ simplemost
نوٹ: یہ ایک مطالعاتی تحقیق ہے، گالیاں دینا اور ایسے الفاظ کا استعمال کرنا جن سے کسی کو ٹھیس پہنچے یا ان کی عزت مجروح ہو، اخلاقاً ایک بری بات ہے۔

ان 6عجیب عادات والے افراد ذہین ہوتے ہیں

ایسا نظر آتا ہے کہ جدید سائنس ذہانت کے حوالے سے مخصوص اور روایتی رویوں کی نفی کرتے ہوئے ایسی عادات کے حامل افراد کو ذہین قرار دیتی ہے جن کا تصور کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ ویسے اس بات سے اختلاف نہیں کہ ذہین افراد اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں کافی مختلف ہوتے ہیں مگر اتنا فرق بھی ہوتا ہے کیا؟ تو جانیں کہ جدید سائنسی رپورٹس میں کیسے رویوں کے حامل افراد کو ذہانت کا حامل قرار دیا گیا ہے جو اکثر افراد کو مضحکہ خیز یا
نا قابل برداشت لگتے ہیں۔ غیر متطم یا صفائی پسند نہ ہونا : امریکا کی مینیسوٹا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران دو گروپس کو لیا گیا، ایک گروپ کو صاف ستھرے ماحول جبکہ دوسرے کو بکھیرے ہوئے سامان کے ساتھ رکھا گیا ۔ پھر ان دونوں گروپس کو ایک موضوعپر آئیڈیاز دینے کیلئے کہا گیا تو نتائج سے معلوم ہوا کہ بکھیرے ہوئے سامان والی جگہ پر رہنے والے گروپ کے خیالات زیادہ دلچسپ اور تخلیقی تھے۔ محققین کے مطابق بے ترتیبی لوگوں کو روایات سے دور رکھتی ہے اور ان کیلئے نت نئے خیالات کا اظہار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ لوگوں کے چبانے کی آواز سے جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے والے : دنیا کی 20فیصد آبادی ایک نفسیاتی عارضے یا مخصوص آوازوں کے معاملے misophoniaحساسیت کا شکار ہے۔ امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس طرح کے افراد زیادہ تخلیقی ذہن رکھنے والے ہوتے ہیں۔

دبئی:سمارٹ فون بطور پاسپورٹ استعمال ہوگا

اپنے اسمارٹ فون کو پاسپورٹ بنائیے، سیکنڈوں میں اسمارٹ گیٹ امیگریشن سے چیک ان کر جائیے، دبئی ایئر پورٹ کے ٹرمینل تھری پر نئی سہولت متعارف کرادی گئی۔دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والے مسافروں کیلئے نئی سہولت متعارف کرائی
گئی ہے جس کے تحت مسافر اپنے پاسپورٹ کی بجائے اسمارٹ فون استعمال کر سکیں گے۔نئے نظام کو"ا سمارٹ یو اے ای والیٹ" کا نام دیا گیا ہے۔ نئی سہولت کے نتیجے میں روانگی کیلئے کلیئرنس کا دورانیہ 9 سے 12 سیکنڈ فی مسافر کم ہو سکے گا۔حکام کے مطابق نئے نظام سے مسافر اپنا وقت بچا سکیں گے اور قیمتی دستاویزات کو محفوظ رکھ سکیں گے۔

نوجوان میراپرگرگیا

ایک اچھی بہو بننے کے لیے لڑکیوں میں کن خوبیوں کی ضرورت ہونی چاہئے ؟ اس کا جواب اداکارہ میرا سے جانیں۔اداکارہ میرا گزشتہ دنوں عامر لیاقت کے رمضان شو 'گیم شو ایسے چلے گا' میں شریک ہوئیں۔ایک نوجوان نے کھڑے ہوکرعامرلیاقت سے کہاکہ گاڑی
مجھے نہیں مل سکتی جس کےجواب میں عامرلیاقت نے کہاکہ میں تمہیں گاڑی تونہیں لیکن انعام دے سکتاہوں ۔نوجوان نے عامرلیاقت کوایک گاناسنایاجس کے بعدانہوں نے کہاکہ نوجوان کودس ہزارروپے کاکوپن دیں ۔اداکارہ میراجب اس نوجوان کوکوپن دینے کے لیے آگے بڑھیں اوراس نوجوان کے قریب پہنچیں تونوجوان گرپڑااوراس کومیراکوقریب دیکھ کراتنی خوشی ہوئی کہ اس نے اس کااظہارعامرلیاقت سے کردیا
جس کے بعدعامرلیاقت بھی میرااوراس نوجوان کے درمیان آگئے اورکہاکہ میرامیری مہمان ہے میں اس کی حفاظت کروں گاپھرانہوں نے نوجوان کومیراکے قریب نہیں آنے دیااوردورسے سیلفی بنوائی ۔جس کے بعداس کے سرپرتھپڑمارکراسے بیٹھنے کو کہہ دیا۔

اتوار، 11 جون، 2017

سیلفی لیجیے اور پیسے کمائیے

بہت زیادہ سیلفیاں لینے کو کبھی دماغی بیماری کی علامت سمجھا جاتا ہے تو کبھی خود پسندی کی دلیل، مگر اب کچھ اداروں نے سیلفیاں کھینچنے والوں کو معاوضہ دینا بھی شروع کر دیا ہے جبکہ آئی ٹی ماہرین کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ابھی تو یہ صرف ابتداء ہے کیونکہ آنے والے برسوں میں شاید سیلفیوں پر معاوضے کا کاروبار
بھی ایک باقاعدہ اور کہیں زیادہ منافع بخش صورت اختیار کر لے۔

ذیل میں ایسی ہی کچھ ایپس/ سروسز دی جارہی ہیں جو سیلفیوں پر معاوضے دیتی ہیں البتہ ان سب میں پہلے باقاعدہ رجسٹریشن کی شرط ہے جس کے بعد قواعد و ضوابط کے مطابق سیلفیاں کھینچ کر جمع کروانے پر معاوضہ بھی دیا جاتا ہے۔

چین میں نقل کی روک تھام کیلئے جدید ڈرون کا استعمال

چین(دلچسپ و عجیب)نقل روکنے کیلئے امتحانی مراکز میں جدید ڈرون اور چہرہ پہچاننے کی ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کردیا گیا، نئے قانون کے تحت نقل کرنے
والوں کو 7سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔
چین میں محکمہ تعلیم نے امتحانات کے دوران نقل کی روک تھام کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے، نقل کرنے والے اور نقل میں مدد دینے والے کیلئے 7 سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔امتحانی مراکز میں چہرہ پہنچاننے کی صلاحیت کے حامل تھری ڈی کیمروں اور ڈرونز سے مدد لی جا رہی ہے۔
چین میں اچھی ملازمت کے حصول کیلئے یونیورسٹی کی تعلیم ضروری سمجھی جاتی ہےاسی لیے یونیورسٹی میں داخلے کے امتحانات کے دوران نقل کو روکنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

برقع پہننے سے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہوجاتی ہے



برطانیہ کی انڈ ی پینڈنس پارٹی دائیں بازو کی سیاسی جماعت ہے۔کئی مسلم ممالک میں خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی عائد ہے مگر یہ جماعت برطانیہ میں برقع پر پابندی عائد کرنے کی حامی ہے ۔یوکپ کے انتخابی منشور میں درج ہے کہ مسلمان عورتوں
کو برقع نہ پہننے کا پابند کیا جائے ۔
جن ممالک میں حجاب پر پابندی عائد ہے وہاں یہ قدم دہشت گردی کے خطرات کومحدودتر کرنے کی غرض سے اٹھایا گیا تھا ۔ان ممالک کی حکومتوں کو خطرہ ہے کہ چہرہ نہ دکھائی دینے کے باعث شناخت ممکن نہیں ہوتی ہے اور کوئی دہشت گرد اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر یوکپ کے پاس برقع پر پابندی کا عجیب و غریب جواز ہے۔پارٹی کے کرتا دھرتا سمجھتے ہیں برقع پہننے سے خواتین کے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی واقع ہوجاتی ہے جو ان کی صحت کے لئے خطرناک ہے ۔پارٹی کے عہدیداروں کی منتق ہے کہ برقع پہننے سے خواتین کے جسم تک دھوپ نہیں پہنچ پاتی اس لئے ان میں وٹامن ڈی کی کمی ہوجاتی ہے ۔برطانیہ میں عام انتخابات آٹھ جون کو منعقد ہوئے اس لئے انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور ہر سیاسی جماعت عوام کی توجہ حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہے ۔دائیں بازو کی سیاسی جماعت کا منشور کہتا ہے کہ شناخت چھپانے والا لباس ابلاغی عمل میں رکاوٹ بنتا ہے اس کی وجہ سے روزگار ملنے کے مواقع محدود ہوجاتے ہیں اور جسم کو وٹامن ڈی کی درکار مقدار نہیں مل پاتی۔

دنیا کا پہلا جدید ترین آن لائن قبرستان جہاں انٹرنیٹ کی سہولت بھی موجود ہوگی

اپنے پیاروں کو قبرستان چھوڑ کر جانا شاید زندگی کا سب سے تکلیف دہ عمل ہوتا ہے تاہم پاکستان کے بڑے شہروں میں میت کو گھر سے قبرستان تک پہنچانا اکثر اوقات
زیادہ تکلیف دہ تجربہ ثابت ہوتا ہے۔
میت کو غسل دینے کا انتظام، کفن و تابوت، قبر کی جگہ خریدنا اور پھر میت کو تیار کر کے جنازہ گاہ اور وہاں سے قبرستان تک اس کی ترسیل، سب کا بندوبست مرنے والے کے لواحقین کو سوگواری سے بھی شاید پہلے کرنا پڑتا ہے۔متوسط اور نچلے طبقے کے لوگ ان تمام مراحل سے متعلقہ اخراجات اور لوازمات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یا پھر سپورٹ سسٹم کی عدم دستیابی کسی بھی طبقے کے شخص کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔تاہم مرنے والے کا تعلق اگر پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں سے ہو تو دیگر کئی مسائل بھی شامل ہو جاتے ہیں۔مثال کے طور پر لاہور میں رہنے والی سکھ اور ہندو برادریوں کے لیے شہر میں ایک ہی شمشان گھاٹ ہے۔ شہرِ خموشاں موجودہ قبرستانوں سے کیسے مختلف ہےسکھ برادری سے تعلق رکھنے والے لاہور کے رہائشی گوپال سنگھ نے بتایا کہ ان کے زیادہ تر لوگوں کو اپنے مردوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے انہیں پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب کے گردوارے میں لے کر جانا پڑتا ہے جو لاہور سے تقریباً اسی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اسی طرح لاہور ہی میں عیسائی برادری کے لیے قبرستان مختص ہیں جن میں سے کئی صدیوں پرانے ہیں۔ لاہور کیتھیڈرل کے ڈین ویری ریورنڈ شاہد معراج کے مطابق ان میں جگہ تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ویری ریورنڈ شاہد معراج کا کہنا ہے کہ ‘وہاں پر جگہ بہت کم ہو گئی ہے بلکہ اب تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم بہت عرصے سے حکومت پنجاب سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں جگہ دی جائے۔’اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ سرد خانوں کی کمی کی وجہ سے میتیں رکھنے کو اکثر جگہ نہیں ملتی تاکہ لوگ ملک سے باہر سے آ کر اپنے پیاروں کی آخری رسومات میں شرکت کر سکیں۔‘ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو ایک باوقار تدفین دے سکے اور لوگ دیتے بھی ہیں۔ بگر بعض لوگوں کے لیے اتنے اخراجات اٹھانا یا انتظامات کرنا مشکل بھی ہو جاتا ہے۔
شہرِ خموشاں کیا ہے؟ ان مسائل کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے حال ہیں میں شہرِ خموشاں کے نام سے ایک اتھارٹی قائم کی ہے جو صوبہ بھر میں دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کے بڑے شہروں کی طرز پر قبرستان بنا رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت تعمیر کیے جانے والا پہلا جدید طرز کا قبرستان لاہور کے مضافات میں بنایا گیا ہے جو ممکنہ طور پر اتوار کے روز سے کام شروع کر دے گا۔ شہرِ خموشاں کفن دفن کے ان تمام مراحل کے لیے سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کرے گا۔شہرِ خموشاں اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر سلمان صوفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت نہ صرف ملک کی اکثریتی آبادی بلکہ اقلیتوں کے لیے بھی ان کی ضروریات کے مطابق قبرستان یا آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے جگہیں جدید طرز پر تعمیر کی جائیں گی۔ان قبرستانوں کے قریب سبزاہ زار گرائونڈ بھی بنائے جائیں گے شہرِ خموشاں کیسے کام کرے گا؟ ‘آپ کو محض ایک ٹیلیفون کال کرنی ہے، کفن دفن کا تمام بندوبست شہرِ خموشاں میں ہوگا۔ میت کی تیاری سے لیکر جنازہ گاہ اور قبر کی جگہ سب ایک ہی مقام پر ہو گا۔ یہاں تمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہوگا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کو کوئی پیسہ دینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔’ایمبولینس کے ذریعے میت قبرستان لائی جائے گی۔ اس کے لواحقین فون پر پہلے ہی سے جنازہ اور تدفین کا وقت اور قبر کی جگہ کا تعین یہاں کاؤنٹر پر بیٹھے شخص کے پاس کروا چکے ہوں گے۔ مُردوں کو غسل دینے کے لیے جدید طرز کے خانے جات موجود ہوں گے جبکہ وضو کرنے اور انتظار کرنے کی جگہیں علیحدہ سے موجود ہوں گی۔قبرستان میں جدید کیمرے بھی نصب کیے جا رہے ہیں جن کی مدد سے لوگ ملک کے کسی بھی حصے سے یا ملک سے باہر سے بیٹھ کر بھی آن لائن اپنے پیاروں کی قبریں دیکھ سکیں گے۔لاہور میں فیروزپور روڑ پر بننے والے پہلے قبرستان میں آٹھ ہزار قبروں کی گنجائش موجود ہے۔ تمام قبریں بلا تفریقِ طبقہ ایک ہی سائز اور طرز کی ہوں گی اور ان کو ترتیب سے بلاکوں کی صورت میں بنایا جائے گا۔ قبر کھودنے کے لیے ایکسکویٹر یعنی مشینری کا استعمال کیا جائے گا جبکہ لواحقین اپنے پیاروں کی قبریں باآسانی کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کی مدد سے تلاش کر سکیں گے۔اس قبرستان میں جدید طرز کا ایک سردخانہ بھی موجود ہے جہاں بیک وقت 40 میتوں کو رکھنے کی گنجائش ہے۔ اسی طرز کے لاہور میں چار مزید قبرستان بنائے جائیں گے جبکہ ملتان، فیصل آباد اور سرگودھا میں ایسے قبرستانوں کی تعمیر جاری ہے۔
شہرِ خموشاں کا پیسہ کہاں سے آئے گا؟ سلمان صوفی نے  بتایا کہ ‘وہ جب لوگوں کو دیکھتے تھے کہ کس طرح ان کو مردوں کو غسل دینے میں یا میت کو تیار کرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو میں نے سوچا کہ ایسا ایک قبرستان بنایا جائے جہاں لوگوں کو ایسے مشکل وقت میں کچھ نہ کرنا پڑے اور جگہ جگہ نہ جانا پڑے۔’شہرِ خموشاں میں آنے والوں سے پیسے نہیں مانگے جائیں گے۔ یہ تمام سہولیات مکمل طور پر حکومتِ پنجاب فراہم کرے گی جس کے لیے سلمان صوفی کے مطابق ایک ارب روپے پہلے ہی سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختص کر دیے گئے ہیں۔ 10 لاکھ کا فنڈ اور دو ایمبولینس گاڑیاں مخیر افراد کی طرف سے عطیہ کیے جا چکے ہیں۔ قبر کھودنے کے لیے مشینری کا استعمال کیا جائے گا سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ ایسے مزید قبرستان پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ فروری 2018 تک وہ ایسے 20 سے 25 قبرستان بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو اگلے 10 سے 15 سالوں کی ضروریات کو پورا کر سکیں گے۔ ان میں اقلیتوں کے لیے قبرستان اور سہولتیں بھی شامل ہوں گی۔‘ہمیں اقلیتوں کے مسائل کا پوری طرح ادراک ہے اسی لیے ہم نے شہرِ خموشاں قانون میں یہ شق رکھی ہے کہ پاکستان میں بسنے والی ہر اقلیت کے لیے قبرستان اور آخری آرام گاہیں اسی جدید ظرز پر تعمیر کی جائیں گی۔”ان کا کہنا تھا کہ ہندوؤں اور سکھوں کے لیے شمشان گھاٹ بنائے جائیں گے۔ اسی طرح اتھارٹی عیسائیوں کے لیے اسی طرز کے قبرستان تعمیر کرے گی جو بنانے کے بعد ان کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

ان انوکھے درختوں کی کہانیاں سنیں

ہماری زمین پر اس وقت لگ بھگ 3 کھرب درخت موجود ہیں۔ ان میں کئی ایسے ہیں جو اب تک دنیا کے سامنے نہیں آسکے، صرف وہاں رہنے والے مقامی افراد ہی ان درختوں سے واقف ہیں جو جدید سہولیات سے عاری زندگی جی رہے ہیں۔
ان میں سے کئی درخت ایسے ہیں جو اپنے اندر نہایت انوکھی کہانیاں سموئے ہیں۔ منفرد ساخت، قد و قامت اور رنگت کے حامل یہ درخت اپنےاندر بے شمار خصوصیات رکھتے ہیں۔
ان میں سے کوئی درخت کئی صدیوں سے موجود ہے، اور وقت کی اونچ نیچ کا گواہ بھی، کچھ درختوں نے بڑی بڑی آفتیں، سیلاب، زلزلے، طوفان، ایٹمی دھماکے سہے لیکن پھر بھی اپنی جگہ پر مضبوطی سے کھڑے رہے۔
سنہ 1999 میں بیتھ مون نامی ایک فوٹوگرافر نے ایسے ہی نایاب لیکن گمنام درختوں کی تصاویر کھینچ کر انہیں دنیا کے سامنے لانے کا سوچا۔
اس نے ایسے درختوں کی تلاش شروع کردی جو تاریخی یا جغرافیائی اہمیت کے حامل تھے۔
ان درختوں کی تلاش کے لیے اس نے طویل تحقیق کی، ملکوں ملکوں کی سیاحت کرنے والوں سے گفتگو کی، لوگوں سے پوچھا۔
بالآخر اس نے اپنے منفرد سفر کا آغاز کیا۔ اس سفر میں وہ پہلے برطانیہ گئی، پھر امریکا، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کا سفر کیا جہاں اس نے دور دراز علاقوں میں موجود قدیم اور انوکھے درختوں کی تصاویر کھینچی۔
یہ درخت طویل عرصے تک موجودگی کے باعث مقامی قوم کے لیے ثقافتی خزانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے درختوں کی کئی اقسام خطرے کا شکار اقسام کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔
بیتھ مون نے ان درختوں کی تصاویر کو ’ قدیم درخت: وقت کی تصویر‘ کے نام سے پیش کیا۔
اس کا کہنا ہے کہ ہر درخت کی اپنی الگ ’زندگی‘ ہے۔ ہر درخت کئی عشروں سے موجود ہے اور اس نے وقت کے مختلف نشیب و فراز دیکھے ہیں۔
آئیں ہم بھی ان نایاب اور انوکھے درختوں سے ملتے ہیں

  ڈریگن بلڈ ٹری              

یمن کے جزیرہ سکوترا میں پائے جانے اس درخت کی عمر 500 سال ہے۔ یہ درخت ہر قسم شاخ در شاخ پھیلا ہوا یہ درخت ایک چھتری جیسا ہے جو بے شمار زندگیوں کو سایہ فراہم کرتا ہے۔
سال میں 2 بار گاؤں والوں کو ان درختوں کے تنے کا کچھ حصہ کاٹنے کی اجازت ہے جس سے یہ سرخ رنگ کا قیمتی محلول حاصل کرتے ہیں جو نہایت بیش قیمت ہوتا ہے اور دوائیں بنانے کے کام آتا ہےکے حالات اور موسموں سے لڑنے اور اپنا وجود برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

صحرا کا پھول               

ڈیزرٹ روز نامی یہ درخت بھی جزیرہ سکوترا میں ہی واقع ہیں۔ انہیں بوتل نما درخت بھی کہا جاتا ہے۔
جس مقام پر یہ درخت موجود ہیں وہ علاقہ اپنے منفرد اور انوکھے پس منظر کی وجہ سے اس دنیا سے الگ ہی کوئی مقام معلوم ہوتا ہے۔

اڈنسونیا گرنڈیڈر               

مشرقی افریقی ملک مڈغا سکر کے ساحلی شہر مورندوا میں پائے جانے والے ان درختوں کی لمبائی 100 فٹ تک ہوتی ہے۔ ان درختوں کو جنگل کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔
ان درختوں کی اوسط عمر 800 سال ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے درختوں کی یہ نایاب ترین قسم اپنے خاتمے کے قریب ہے اور اس قسم کے صرف 20 درخت باقی رہ گئے ہیں۔
صرف مڈغا سکر میں پائے جانے والے ان درختوں کا یہاں پورا جنگل موجود تھا۔

کاپوک درخت                

امریکی ریاست فلوریڈا کے پام بیچ پر پایا جانے والا کاپوک درخت دیکھنے میں نہایت منفرد ہیئت کا حامل ہے۔
فوٹوگرافر نے اس درخت کو سنہ 1940 میں شائع ہونے والی ایک کتاب میں دیکھا تھا۔ ’60 سال میں یہ درخت عظیم بن چکا ہے‘۔ اس درخت کی جڑیں زمین کے اوپر 12 فٹ تک پھیلی ہوئی ہیں۔

افٹی ٹی پاٹ                  

مڈغاسکر میں ہی موجود یہ درخت چائے دان جیسا ہے لہٰذا مقامی افراد نے اسے یہی نام دے ڈالا۔
یہ درخت 12 سو سال قدیم مانا جاتا ہے۔ اس کا تنا 45 فٹ کے پھیلاؤ پر مشتمل ہے اور اس کے اندر 31 ہزار گیلن پانی محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

تیر کے ترکش               

جنوبی افریقی ملک نمیبیا میں پائے جانے والے درختوں کی اس قسم کو زمین پر موجود تمام درختوں میں نایاب اور غیر معمولی ترین قرار دیا جاتا ہے۔ یہ درخت صدیوں پرانے ہوسکتے ہیں۔
یہ درخت 33 فٹ بلندی تک بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مقامی افراد ان درختوں کی کھوکھلی شاخیں کاٹ کر ان سے تیروں کے ترکش بناتے ہیں۔
سنہ 1995 میں ان درختوں کے جنگل کو نمیبیا کی قومی یادگار کا درجہ دیا جاچکا ہے۔

رلکیز بائیون                

کمبوڈیا میں موجود 12 ویں صدی کے ایک بودھ مندر میں موجود یہ درخت کچھ اس طرح موجود ہے کہ یہ اس عبادت گاہ کے کھنڈرات کا ہی حصہ لگتا ہے۔ درخت کی شاخیں اور مندر کے در و دیوار آپس میں پیوست ہیں۔

بظاہر یوں لگتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے قدیم وجود کو سہارا دیے کھڑے ہیں اور صرف مندر کو گرانا یا درخت کو کاٹنا نا ممکن لگتا ہے۔
مندر کے پیچھے ان درختوں کا جنگل موجود ہے جس نے انسانوں کی جانب سے اس مندر کو ترک کیے جانے کے بعد اس پر ’قبضہ‘ کرلیا ہے۔


سوشل میڈیا پرمنفی رائے دینامشکل کاسبب ہوسکتاہے

فیصل آباد:  زرعی یونیورسٹی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر سخت قوانین کے خلاف
آوازاٹھانے پر تین طلبا کو نکال دیا۔
سوشل میڈیا پر اظہاررائے جرم بن گیا۔تین طلبا کے لئے جامعہ کے دروازے بندکردئیے گئے ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی انتظامیہ نے فیس بک پر جامعہ کےقوانین پرتنقید کرنے والے تین طلبا کونکال دیا۔
محمداسفنداورغلام جیلانی نے اپنی رائے فیس بک وال پر پوسٹ کی تھی جبکہ زوبیر کو تو معلوم ہی نہیں اسے کس جرم میں نکالا۔
انتظامیہ نے طلبہ کو نکالنے کا نوٹفکیشن نوٹس بورڈ میں لگانے کے بجائے براہ راست طلبہ کو بھیج دیا۔
یونیورسٹی  انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈسپلنری ایکٹ کےتحت کارروائی کی گئی ہے، طلبہ وائس چانسلر سے اپیل کا حق رکھتے ہیں۔

میرا جی کے ٹرمپ کے نام ٹویٹ نے تباہی مچادی

اکستانی اداکار میرا کو خبروں میں رہنے کا فن آتا ہے۔میرا کو شو بز انڈسٹری کے ان افراد میں شمار کیا جاتا ہے جو حقیققتا دوسروں کو تفریح کے مواقع فراہم کرتے ہیں چاہے وہ انگریزی بول کر ہو یا چٹ پٹے بیانات سے۔ آج کل میرا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خاصی ’’ان‘‘ہیں۔ میرا کے چٹ پٹے ٹویٹس صارفین کو صحیح معنوں میں
بھا رہے ہیں ، سوشل میڈیا پر تبصرے بھی خوب وائرل ہیں۔
گزشتہ دنوں نے ماہ رمضان کے باوجود گرمی میں اتنی لوڈ شیڈنگ پر وزارت پانی و بجلی کو چھوڑ کر مریم نواز کو خوب لتاڑا تھا۔ میرا جی کی جانب سے مریم کو ’’او باجی ‘‘اور قصائی کہہ کر پکارنے کو تو سوشل میڈیا پرخوب ہی مقبولیت ملی۔

بیونس آئرس میں8ویں سالانہ انٹرنیشنل موٹر شو کا آغاز

بیونس آئرس میں8ویں سالانہ انٹرنیشنل موٹر شو کا آغاز
یونس آئرس میں8ویں سالانہ انٹرنیشنل موٹر شو کا آغاز، چمچماتی گاڑیاں شرکاء کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ارجنٹینا کے دار الحکومت بیونس آئرس میں8 ویں سالانہ انٹرنیشنل موٹر شو کا آغاز ہوگیا ہے۔ مقامی کنونشن سینٹر میں منعقد ہونے والے اس انٹرنیشنل موٹر شو میں دنیا بھر سے سینکڑوں گاڑی ساز کمپنیاں شرکت کررہی ہیں ۔کار شو میں شریک کمپنیاں اپنی سابقہ گاڑیوں کو نئی جدت کیساتھ متعارف کروانے کے علاوہ نئی گاڑیوں کے ماڈل بھی نمائش کے لیے پیش کررہی ہیں۔بارہ روز تک جاری رہنے والے اس ایونٹ کے دوران ارجنٹینا سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں سیاحوں کی شرکت متوقع ہے۔واضح رہے کہ 9جون سے شروع ہونے والا یہ ایونٹ 20جون کو اختتام پذیر ہوگا۔